دیار شوق میں آئے تھے ایک خواب کے ساتھ

زعیم رشید

دیار شوق میں آئے تھے ایک خواب کے ساتھ

زعیم رشید

MORE BYزعیم رشید

    دیار شوق میں آئے تھے ایک خواب کے ساتھ

    گزر رہی ہے مسلسل کسی عذاب کے ساتھ

    ہم اہل درد پکارے گئے صحیفوں میں

    ہم اہل عشق اتارے گئے کتاب کے ساتھ

    پھر ایک شام پذیرائی چشم تر کی ہوئی

    پھر ایک شام گزاری گئی جناب کے ساتھ

    ہمیں یہ خوف اندھیرے نگل نہ جائیں کہیں

    سو ہم نے جسم کو ڈھانپا ہے آفتاب کے ساتھ

    مکالمہ رہا جاری ہماری آنکھوں کا

    بدن کی شاخ پہ کھلتے ہوئے گلاب کے ساتھ

    کچھ اور چاہیے تشنہ لبی مٹانے کو

    یہ پیاس وہ ہے جو بجھتی نہیں شراب کے ساتھ

    زعیمؔ وہ مری دریا دلی سے ڈرتا ہے

    وہ مجھ سے ملتا ہے لیکن بڑے حساب کے ساتھ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY