دے محبت تو محبت میں اثر پیدا کر

بیخود دہلوی

دے محبت تو محبت میں اثر پیدا کر

بیخود دہلوی

MORE BYبیخود دہلوی

    دے محبت تو محبت میں اثر پیدا کر

    جو ادھر دل میں ہے یا رب وہ ادھر پیدا کر

    دود دل عشق میں اتنا تو اثر پیدا کر

    سر کٹے شمع کی مانند تو سر پیدا کر

    پھر ہمارا دل گم گشتہ بھی مل جائے گا

    پہلے تو اپنا دہن اپنی کمر پیدا کر

    کام لینے ہیں محبت میں بہت سے یا رب

    اور دل دے ہمیں اک اور جگر پیدا کر

    تھم ذرا اے عدم آباد کے جانے والے

    رہ کے دنیا میں ابھی زاد سفر پیدا کر

    جھوٹ جب بولتے ہیں وہ تو دعا ہوتی ہے

    یا الٰہی مری باتوں میں اثر پیدا کر

    آئینہ دیکھنا اس حسن پہ آسان نہیں

    پیشتر آنکھ مری میری نظر پیدا کر

    صبح فرقت تو قیامت کی سحر ہے یا رب

    اپنے بندوں کے لیے اور سحر پیدا کر

    مجھ کو روتا ہوا دیکھیں تو جھلس جائیں رقیب

    آگ پانی میں بھی اے سوز جگر پیدا کر

    مٹ کے بھی دوری گلشن نہیں بھاتی یا رب

    اپنی قدرت سے مری خاک میں پر پیدا کر

    شکوۂ درد جدائی پہ وہ فرماتے ہیں

    رنج سہنے کو ہمارا سا جگر پیدا کر

    دن نکلنے کو ہے راحت سے گزر جانے دے

    روٹھ کر تو نہ قیامت کی سحر پیدا کر

    ہم نے دیکھا ہے کہ مل جاتے ہیں لڑنے والے

    صلح کی خو بھی تو اے بانئ شر پیدا کر

    مجھ سے گھر آنے کے وعدے پر بگڑ کر بولے

    کہہ دیا غیر کے دل میں ابھی گھر پیدا کر

    مجھ سے کہتی ہے کڑک کر یہ کماں قاتل کی

    تیر بن جائے نشانہ وہ جگر پیدا کر

    کیا قیامت میں بھی پردہ نہ اٹھے گا رخ سے

    اب تو میری شب یلدا کی سحر پیدا کر

    دیکھنا کھیل نہیں جلوۂ دیدار ترا

    پہلے موسیٰ سا کوئی اہل نظر پیدا کر

    دل میں بھی ملتا ہے وہ کعبہ بھی اس کا ہے مقام

    راہ نزدیک کی اے عزم سفر پیدا کر

    ضعف کا حکم یہ ہے ہونٹ نہ ہلنے پائیں

    دل یہ کہتا ہے کہ نالے میں اثر پیدا کر

    نالے بیخودؔ کے قیامت ہیں تجھے یاد رہے

    ظلم کرنا ہے تو پتھر کا جگر پیدا کر

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    دے محبت تو محبت میں اثر پیدا کر نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY