دیکھ لیتے ہیں اب اس بام کو آتے جاتے

نصیر ترابی

دیکھ لیتے ہیں اب اس بام کو آتے جاتے

نصیر ترابی

MORE BY نصیر ترابی

    دیکھ لیتے ہیں اب اس بام کو آتے جاتے

    یہ بھی آزار چلا جائے گا جاتے جاتے

    دل کے سب نقش تھے ہاتھوں کی لکیروں جیسے

    نقش پا ہوتے تو ممکن تھا مٹاتے جاتے

    تھی کبھی راہ جو ہمراہ گزرنے والی

    اب حذر ہوتا ہے اس راہ سے آتے جاتے

    شہر بے مہر! کبھی ہم کو بھی مہلت دیتا

    اک دیا ہم بھی کسی رخ سے جلاتے جاتے

    پارۂ ابر گریزاں تھے کہ موسم اپنے

    دور بھی رہتے مگر پاس بھی آتے جاتے

    ہر گھڑی ایک جدا غم ہے جدائی اس کی

    غم کی میعاد بھی وہ لے گیا جاتے جاتے

    اس کے کوچے میں بھی ہو، راہ سے بے راہ نصیرؔ

    اتنے آئے تھے تو آواز لگاتے جاتے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY