دیکھا تھا جو بھی خواب میں اب کیا ہے کچھ نہیں

برقی اعظمی

دیکھا تھا جو بھی خواب میں اب کیا ہے کچھ نہیں

برقی اعظمی

MORE BYبرقی اعظمی

    دیکھا تھا جو بھی خواب میں اب کیا ہے کچھ نہیں

    اس حسن اور شباب میں اب کیا ہے کچھ نہیں

    میرے لیے تو جیسے وہ کاغذ کا پھول تھا

    اس خوش نما گلاب میں اب کیا ہے کچھ نہیں

    اب ہیں کتاب زیست کے اوراق منتشر

    اس کے ہر ایک باب میں اب کیا ہے کچھ نہیں

    مجھ کو دکھا رہا تھا ابھی تک وہ سبز باغ

    ہے زندگی عذاب میں اب کیا ہے کچھ نہیں

    خوش فہمی کے شکار تھے وعدے پہ جس کے سب

    کیا کیا ملا حساب میں اب کیا ہے کچھ نہیں

    جو کچھ بچا کے رکھا تھا آئندہ کے لیے

    سب مل گیا وہ آب میں اب کیا ہے کچھ نہیں

    میرا سوال اس کے لیے لا جواب تھا

    جو کچھ ملا جواب میں اب کیا ہے کچھ نہیں

    کل تک سمجھ رہا تھا جسے جان آرزو

    اس حسن انتخاب میں اب کیا ہے کچھ نہیں

    روشن تھی جن سے شمع شبستان زندگی

    یادوں کے اس سراب میں اب کیا ہے کچھ نہیں

    جو لطف اس کی نقرئی آواز میں ملا

    اس چنگ اور رباب میں اب کیا ہے کچھ نہیں

    برقیؔ تھا جس کا روئے حسیں مثل ماہتاب

    اس رشک ماہتاب میں اب کیا ہے کچھ نہیں

    مآخذ:

    • کتاب : Inpage File Mail By Salim Saleem

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY