دیکھیے آ کے ذرا ایک اشارہ کر کے
رکھ دیا آپ نے کیا حال ہمارا کر کے
دے دیا دل ہی انہیں ان کا بھرم رکھنے کو
لطف آتا ہے ہمیں اپنا خسارا کر کے
آپ چاہیں کہ نہ آئیں تو ادھر غم بھی نہیں
ہم تو جی لیتے ہیں یادوں کو سہارا کر کے
زندگی تلخ ہوئی جاتی ہے اتنی کہ نہ پوچھ
بس گزر جائے کسی طرح گزارا کر کے
اس طرح دور مجھے ماں نہیں ہونے دیتی
مجھ کو نظروں میں وہ رکھتی ہے ستارہ کر کے
راستہ کوئی بچا ہی نہیں مرنے کے سوا
ہم نہ جی پائیں گے رسوائی گوارا کر کے
ہم سے اک پل بھی نہ ہو پائے گا خالدؔ کیسے
لوگ ماں باپ سے رہتے ہیں کنارا کر کے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.