دیکھو ایسا عجب مسافر پھر کب لوٹ کے آتا ہے

صابر وسیم

دیکھو ایسا عجب مسافر پھر کب لوٹ کے آتا ہے

صابر وسیم

MORE BYصابر وسیم

    دیکھو ایسا عجب مسافر پھر کب لوٹ کے آتا ہے

    دریا اس کو رستہ دے کر آج تلک پچھتاتا ہے

    جنگل جنگل گھومنے والا اپنے دھیان کی دستک سے

    کوسوں دور اک گھر میں کسی کو ساری رات جگاتا ہے

    جانے کس کی آس لگی ہے جانے کس کو آنا ہے

    کوئی ریل کی سیٹی سن کر سوتے سے اٹھ جاتا ہے

    میری گلی کے سامنے والے گھر کی اندھیری کھڑکی میں

    اس لڑکی سے باتیں کر کے کوئی مجھے دہراتا ہے

    کیسا جھوٹا سہارا ہے یہ دکھ سے آنکھ چرانے کا

    کوئی کسی کا حال سنا کر اپنا آپ چھپاتا ہے

    کچی منڈیروں والے گھر میں شام کے ڈھلتے ہی ہر روز

    اپنے دوپٹے کے پلو سے کوئی چراغ جلاتا ہے

    RECITATIONS

    فہد حسین

    فہد حسین

    فہد حسین

    دیکھو ایسا عجب مسافر پھر کب لوٹ کے آتا ہے فہد حسین

    مآخذ:

    • کتاب : siip-volume-47 (Pg. 50)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY