دیکھوں ہوں یوں میں اس ستم ایجاد کی طرف

محمد رفیع سودا

دیکھوں ہوں یوں میں اس ستم ایجاد کی طرف

محمد رفیع سودا

MORE BYمحمد رفیع سودا

    دیکھوں ہوں یوں میں اس ستم ایجاد کی طرف

    جوں صید وقت ذبح کے صیاد کی طرف

    نے دانہ ہم قیاس کیا نے لحاظ دام

    دھنس گئے قفس میں دیکھ کے صیاد کی طرف

    ثابت نہ ہووے خون مرا روز باز پرس

    بولیں گے اہل حشر سو جلاد کی طرف

    پتھر کی لیکھ تھا سخن اس کا ہزار حیف

    بولی زبان تیشہ نہ فرہاد کی طرف

    طرہ کے تیرے واسطے صد چوب شانہ دار

    قمری گئی ہے کاٹنے شمشاد کی طرف

    سوداؔ تو اس غزل کو غزل در غزل ہی کہہ

    ہونا ہے تجھ کو میرؔ سے استاد کی طرف

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY