دھو کے اشکوں سے کئی بار اجالی ہوئی ہے

سنجے مصرا شوق

دھو کے اشکوں سے کئی بار اجالی ہوئی ہے

سنجے مصرا شوق

MORE BYسنجے مصرا شوق

    دھو کے اشکوں سے کئی بار اجالی ہوئی ہے

    دھوپ میں جل کے وہ تصویر بھی کالی ہوئی ہے

    میں گروں گا تو اسی خاک سے اٹھے گا کوئی

    حق پرستوں سے یہ دنیا کبھی خالی ہوئی ہے

    لکھنؤ ناز ہے جس پر وہی کہنہ تہذیب

    ہم نے ورثے میں سلیقے سے سنبھالی ہوئی ہے

    اب نہ تصویر ہے کوئی نہ ہے کیلوں کی چبھن

    دل کی دیوار اسی سال سے خالی ہوئی ہے

    خاک میں مل گیا جب روح کا خالی پنجرہ

    منصب عشق پہ تب اپنی بحالی ہوئی ہے

    دشت وحشت کا کوئی خوف نہیں ہے ہم کو

    سب بھلا دینے کی تدبیر نکالی ہوئی ہے

    تیرے جیسا تو کہیں کوئی نہیں ہے جاناں

    ہم نے آفاق کی منزل بھی کھنگالی ہوئی ہے

    ہاں مری فکر الگ ہے تو سبب ہے اس کا

    درد کے چولھے پہ سو بار ابالی ہوئی ہے

    اپنا حق مانگنا حاکم سے بغاوت ہے مگر

    یہ روایت بھی ہماری ہی تو ڈالی ہوئی ہے

    میرے ان شعروں پہ سر دھنتی رہے گی دنیا

    جن میں تمثال گری دیکھنے والی ہوئی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY