دھند میں ڈوبی ساری فضا تھی اس کے بال بھی گیلے تھے

فہیم شناس کاظمی

دھند میں ڈوبی ساری فضا تھی اس کے بال بھی گیلے تھے

فہیم شناس کاظمی

MORE BYفہیم شناس کاظمی

    INTERESTING FACT

    تیسرے شعر میں مشہور شاعر مصطفیٰ زیدی اور ان کی محبوبہ شہناز کی طرف اشارہ ہے ، مصطفیٰ زیدی ایک روز اپنے کمرے میں مردہ پائے گئے

    دھند میں ڈوبی ساری فضا تھی اس کے بال بھی گیلے تھے

    جس کی آنکھیں جھیلوں جیسی جس کے ہونٹ رسیلے تھے

    جس کو کھو کر خاک ہوئے ہم آج اسے بھی دیکھا تو

    ہنستی آنکھیں افسردہ تھیں ہونٹ بھی نیلے نیلے تھے

    جن کو چھو کر کتنے زیدیؔ اپنی جان گنوا بیٹھے

    میرے عہد کی شہنازوںؔ کے جسم بڑے زہریلے تھے

    آخر آخر ایسا ہوا کہ تیرا نام بھی بھول گئے

    اول اول عشق میں جاناں ہم کتنے جوشیلے تھے

    آنکھیں بجھا کے خود کو بھلا کے آج شناسؔ میں آیا ہوں

    تلخ تھیں لہجوں کی برساتیں رنگ بھی کڑوے کسیلے تھے

    RECITATIONS

    فہد حسین

    فہد حسین

    فہد حسین

    دھند میں ڈوبی ساری فضا تھی اس کے بال بھی گیلے تھے فہد حسین

    Tagged Under

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY