دھوپ میں نہائے تھے روشنی کے پہرے تھے

پون کمار

دھوپ میں نہائے تھے روشنی کے پہرے تھے

پون کمار

MORE BY پون کمار

    دھوپ میں نہائے تھے روشنی کے پہرے تھے

    پھر بھی ان درختوں کے سائے کتنے گہرے تھے

    دیکھتا رہا مجھ کو آئنہ بھی حیرت سے

    آج میرے چہرے میں جذب کتنے چہرے تھے

    ان دنوں تو خوشیوں کے رنگ بھی ہیں افسردہ

    ان دنوں اداسی کے رنگ بھی سنہرے تھے

    وقت قتل چیخا میں کوئی کچھ نہیں بولا

    لوگ میری بستی کے گونگے اور بہرے تھے

    میں وہ ایک شاہزادہ جس کی اک حویلی تھی

    اور اس حویلی کے چار سمت پہرے تھے

    وقت نے بدن اپنا کر دیا ہے شل ورنہ

    ہم بھی تیری عمروں میں شاد تھے چھرہرے تھے

    عشق وہ لڑکپن کا کیا ہی لطف دیتا تھا

    شب برات تھیں راتیں اور دن دشہرے تھے

    آپ جس علاقے میں ایک پل نہ رہ پائے

    ہم اسی علاقے میں ایک عمر ٹھہرے تھے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY