دکھا ہے حور کا جب سے شباب کعبے میں

مبشر علی زیدی

دکھا ہے حور کا جب سے شباب کعبے میں

مبشر علی زیدی

MORE BYمبشر علی زیدی

    دکھا ہے حور کا جب سے شباب کعبے میں

    بہت سے لوگ ہوئے ہیں خراب کعبے میں

    حرام ہے جو کہیں لطف پی کے آیا ہو

    حرام جب سے ہوئی ہے شراب کعبے میں

    طواف کر کے تھکن سے جو چور چور ہوئے

    ہمیں دکھائی دیا بت کا خواب کعبے میں

    کہاں پہ کرتے ہیں عاشق طواف گن گن کے

    خدا کے واسطے مت کر حساب کعبے میں

    اگر کہو تو کریں گے طواف طور کا ہم

    وگرنہ رخ سے الٹ دو نقاب کعبے میں

    خدا کا شکر کہ الحاد کی حمایت میں

    خدا نے ہم پہ اتاری کتاب کعبے میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY