دل ابھی تک جوان ہے پیارے

حفیظ جالندھری

دل ابھی تک جوان ہے پیارے

حفیظ جالندھری

MORE BYحفیظ جالندھری

    دل ابھی تک جوان ہے پیارے

    کس مصیبت میں جان ہے پیارے

    تو مرے حال کا خیال نہ کر

    اس میں بھی ایک شان ہے پیارے

    تلخ کر دی ہے زندگی جس نے

    کتنی میٹھی زبان ہے پیارے

    وقت کم ہے نہ چھیڑ ہجر کی بات

    یہ بڑی داستان ہے پیارے

    جانے کیا کہہ دیا تھا روز ازل

    آج تک امتحان ہے پیارے

    ہم ہیں بندے مگر ترے بندے

    یہ ہماری بھی شان ہے پیارے

    نام ہے اس کا ناصح مشفق

    یہ مرا مہربان ہے پیارے

    کب کیا میں نے عشق کا دعویٰ

    تیرا اپنا گمان ہے پیارے

    میں تجھے بے وفا نہیں کہتا

    دشمنوں کا بیان ہے پیارے

    ساری دنیا کو ہے غلط فہمی

    مجھ پہ تو مہربان ہے پیارے

    تیرے کوچے میں ہے سکوں ورنہ

    ہر زمیں آسمان ہے پیارے

    خیر فریاد بے اثر ہی سہی

    زندگی کا نشان ہے پیارے

    شرم ہے احتراز ہے کیا ہے

    پردہ سا درمیان ہے پیارے

    عرض مطلب سمجھ کے ہو نہ خفا

    یہ تو اک داستان ہے پیارے

    جنگ چھڑ جائے ہم اگر کہہ دیں

    یہ ہماری زبان ہے پیارے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY