دل دھڑکنوں میں جیسے دھڑکتا اسی کا تھا

نبیل احمد نبیل

دل دھڑکنوں میں جیسے دھڑکتا اسی کا تھا

نبیل احمد نبیل

MORE BYنبیل احمد نبیل

    دل دھڑکنوں میں جیسے دھڑکتا اسی کا تھا

    جیسے مرے وجود پہ چہرہ اسی کا تھا

    رکھا ہوا تھا جس کو زمانے سے دور دور

    ہر لب پہ اس کا تذکرہ چرچا اسی کا تھا

    آنے دیا نہ چین کبھی ایک پل مجھے

    میرے تصورات میں دھڑکا اسی کا تھا

    جس نے تمام شہر کھنڈر میں بدل دیا

    سکہ تمام شہر میں چلتا اسی کا تھا

    یوں تو ہزار زخم مجھے اور بھی لگے

    لیکن جو زخم سب سے تھا گہرا اسی کا تھا

    شدت کی پیاس نے مجھے گھیرا تو یہ کھلا

    صحرا کا جو مکین تھا دریا اسی کا تھا

    ہم کو ہے آج تک اسی تعبیر کی طلب

    آیا تھا کل نبیلؔ جو سپنا اسی کا تھا

    روشن تھا جس چراغ کی لو سے بدن نبیلؔ

    مجھ کو تمام عمر ہی دھڑکا اسی کا تھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY