دل تباہ کو اب تک نہیں یقیں آیا

فہیم شناس کاظمی

دل تباہ کو اب تک نہیں یقیں آیا

فہیم شناس کاظمی

MORE BYفہیم شناس کاظمی

    دل تباہ کو اب تک نہیں یقیں آیا

    کہ شام بیت گئی اور تو نہیں آیا

    جہاں سے میں نے کیا تھا کبھی سفر آغاز

    میں خاک دھول ہوا لوٹ کر وہیں آیا

    وہ جس کے ہاتھ سے تقریب دل نمائی تھی

    ابھی وہ لمحۂ موجود میں نہیں آیا

    بس ایک بار مری نیند چھو گیا کوئی

    پھر اس کے بعد ہر اک خواب دل نشیں آیا

    بچھڑ کے تجھ سے تری یاد بھی نہیں آئی

    مکاں کی سمت پلٹ کر مکیں نہیں آیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY