دل کا سرمایہ لئے تو بھی کوئی بازار دیکھ

ماہر عبدالحی

دل کا سرمایہ لئے تو بھی کوئی بازار دیکھ

ماہر عبدالحی

MORE BYماہر عبدالحی

    دل کا سرمایہ لئے تو بھی کوئی بازار دیکھ

    تیرے دشمن کا چمک اٹھا ہے کاروبار دیکھ

    جس پہ چلنے کا صلہ ہے منزل امن و سکوں

    کھینچ دی ہے وقت نے اس راہ میں دیوار دیکھ

    روح تازہ کون پھونکے گا تن بے روح میں

    لشکر درماندگاں ہے بے سپہ سالار دیکھ

    ہجرتوں کے سلسلے باقی ہیں دنیا میں ابھی

    لیکن اب ڈھونڈے سے بھی ملتے نہیں انصار دیکھ

    جان دے کر جان لی تو نے بھلا یہ کیا کیا

    تیری قربانی ہوئی میرے گلے کا ہار دیکھ

    جس کی خوشبو سے معطر ہے مشام زندگی

    بے وقار وزن پھرتا ہے وہ نافہ دار دیکھ

    اے سراپا شمع بزم ماہ و انجم سے نکل

    کن اندھیروں کو ہے تیری روشنی درکار دیکھ

    دامن دل بھر کے لے جاتے ہیں ارباب نظر

    بے نوا درویش کا دربار ہے دربار دیکھ

    کس کے روکے سے رکی ہے گردش لیل و نہار

    ظلمت شب کے پجاری صبح کے آثار دیکھ

    کب تلک گائے گا ماہرؔ عظمت ماضی کے گیت

    عصر نو کی روز افزوں گرمئ بازار دیکھ

    مآخذ :
    • کتاب : Hari Sonahri Khak (Ghazal) (Pg. 129)
    • Author : Mahir Abdul Hayee
    • مطبع : Bazme-e-Urdu,Mau (2008)
    • اشاعت : 2008

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY