دل کے درد کے کم ہونے کا تنہا کچھ سامان ہوا

رضیہ فصیح احمد

دل کے درد کے کم ہونے کا تنہا کچھ سامان ہوا

رضیہ فصیح احمد

MORE BYرضیہ فصیح احمد

    دل کے درد کے کم ہونے کا تنہا کچھ سامان ہوا

    ہم بھی اب کے دن جی لیں گے اس کا بھی امکان ہوا

    ایک دیے کی لو نے سارا شہر جلا کر خاک کیا

    ایک ہوا کا جھونکا بن کر آندھی اور طوفان ہوا

    آرزوؤں کی نیچی سانس نے اس در پر دستک دی

    اور جنوں کا اک اک لمحہ میرے گھر مہمان ہوا

    وقت کا کٹنا اس سے پوچھو ہجر میں جس کی گزری ہو

    ایک اک لمحہ ایک صدی تھا کب ہم پر آسان ہوا

    کوئی کسی کا میت نہیں ہے دنیا کہتی آئی ہے

    ہم نے جس کو اپنا جانا وقت پہ وہ انجان ہوا

    عشق اڑانوں کا دشمن ہے کیا اس کو معلوم نہ تھا

    دل کا پنچھی قید میں آ کر کیوں اتنا حیران ہوا

    تنہا ان کی گل افشانی کچھ نہ پوچھو کیسی ہے

    جب بھی حضرت واعظ بولے سب کا جی ہلکان ہوا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY