دل کے گھاؤ جب آنکھوں میں آتے ہیں

فارغ بخاری

دل کے گھاؤ جب آنکھوں میں آتے ہیں

فارغ بخاری

MORE BYفارغ بخاری

    دل کے گھاؤ جب آنکھوں میں آتے ہیں

    کتنے ہی زخموں کے شہر بساتے ہیں

    کرب کی ہاہا کار لیے جسموں میں ہم

    جنگل جنگل صحرا صحرا جاتے ہیں

    دو دریا بھی جب آپس میں ملتے ہیں

    دونوں اپنی اپنی پیاس بجھاتے ہیں

    سوچوں کو لفظوں کی سزا دینے والے

    سپنوں کے سچے ہونے سے گھبراتے ہیں

    درد کا زندہ رہنا پیاس کا معجزہ ہے

    دیوانے ہی یہ بن باس کماتے ہیں

    تاریخوں میں گزرے ماضی کی صورت

    اہل جنوں کے نقش پا مل جاتے ہیں

    دکھ سکھ بھی کرتا ہے سر بھی پھوڑتا ہے

    دیواروں سے فارغ کے سو ناتے ہیں

    مآخذ:

    • کتاب : siip-volume-47 (Pg. 227)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY