دل کے صحرا میں کوئی آس کا جگنو بھی نہیں

نور بجنوری

دل کے صحرا میں کوئی آس کا جگنو بھی نہیں

نور بجنوری

MORE BYنور بجنوری

    دل کے صحرا میں کوئی آس کا جگنو بھی نہیں

    اتنا رویا ہوں کہ اب آنکھ میں آنسو بھی نہیں

    اتنی بے رحم نہ تھی زیست کی دوپہر کبھی

    ان خرابوں میں کہیں سایۂ گیسو بھی نہیں

    کاسۂ درد لیے پھرتی ہے گلشن کی ہوا

    میرے دامن میں ترے پیار کی خوشبو بھی نہیں

    چھن گیا میری نگاہوں سے بھی احساس جمال

    تیری تصویر میں پہلا سا وہ جادو بھی نہیں

    موج در موج ترے غم کی شفق کھلتی ہے

    مجھ کو اس سلسلۂ رنگ پہ قابو بھی نہیں

    دل وہ کم بخت کہ دھڑکے ہی چلا جاتا ہے

    یہ الگ بات کہ تو زینت پہلو بھی نہیں

    یہ عجب راہ گزر ہے کہ چٹانیں تو بہت

    اور سہارے کو تری یاد کے بازو بھی نہیں

    حادثہ یہ بھی گزرتا تھا مری جاں ہم پر

    پیکر سنگ ہیں دو، میں بھی نہیں تو بھی نہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY