دل کو بھی غم کا سلیقہ نہ تھا پہلے پہلے

کشور ناہید

دل کو بھی غم کا سلیقہ نہ تھا پہلے پہلے

کشور ناہید

MORE BYکشور ناہید

    دل کو بھی غم کا سلیقہ نہ تھا پہلے پہلے

    اس کو بھی بھولنا اچھا لگا پہلے پہلے

    دل تھا شب زاد اسے کس کی رفاقت ملتی

    خواب تعبیر سے چھپتا رہا پہلے پہلے

    پہلے پہلے وہی انداز تھا دریا جیسا

    پاس آ آ کے پلٹتا رہا پہلے پہلے

    آنکھ آئنوں کی حیرت نہیں جاتی اب تک

    ہجر کا گھاؤ بھی اس نے دیا پہلے پہلے

    کھیل کرنے کو بہت تھے دل خواہش دیدہ

    کیوں ہوا دیکھ جلایا دیا پہلے پہلے

    عمر آئندہ کے خوابوں کو پیاسا رکھا

    فاصلہ پاؤں پکڑتا رہا پہلے پہلے

    ناخن بے خبری زخم بناتا ہی رہا

    کوئے وحشت میں تو رستہ نہ تھا پہلے پہلے

    اب تو اس شخص کا پیکر بھی گل خواب نہیں

    جو کبھی مجھ میں تھا مجھ جیسا تھا پہلے پہلے

    اب وہ پیاسا ہے تو ہر بوند بھی پوچھے نسبت

    وہ جو دریاؤں پہ ہنستا رہا پہلے پہلے

    وہ ملاقات کا موسم نہیں آیا اب کے

    جو سر خواب سنورتا رہا پہلے پہلے

    غم کا دریا مری آنکھوں میں سمٹ کر پوچھے

    کون رو رو کے بچھڑتا رہا پہلے پہلے

    اب جو آنکھیں ہوئیں صحرا تو کھلا ہر منظر

    دل بھی وحشت کو ترستا رہا پہلے پہلے

    میں تھی دیوار تو اب کس کا ہے سایہ تجھ پر

    ایسا صحرا زدہ چہرا نہ تھا پہلے پہلے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    کشور ناہید

    کشور ناہید

    RECITATIONS

    کشور ناہید

    کشور ناہید

    کشور ناہید

    دل کو بھی غم کا سلیقہ نہ تھا پہلے پہلے کشور ناہید

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY