دل میں پوشیدہ تپ عشق بتاں رکھتے ہیں

امام بخش ناسخ

دل میں پوشیدہ تپ عشق بتاں رکھتے ہیں

امام بخش ناسخ

MORE BYامام بخش ناسخ

    دل میں پوشیدہ تپ عشق بتاں رکھتے ہیں

    آگ ہم سنگ کی مانند نہاں رکھتے ہیں

    تازگی ہے سخن کہنہ میں یہ بعد وفات

    لوگ اکثر مرے جینے کا گماں رکھتے ہیں

    بھا گئی کون سی وہ بات بتوں کی ورنہ

    نہ کمر رکھتے ہیں کافر نہ دہاں رکھتے ہیں

    مثل پروانہ نہیں کچھ زر و مال اپنے پاس

    ہم فقط تم پہ فدا کرنے کو جاں رکھتے ہیں

    محفل یار میں کچھ بات نہ نکلی منہ سے

    کہنے کو شمع کی مانند زباں رکھتے ہیں

    ہو گیا زرد پڑی جس کی حسینوں پہ نظر

    یہ عجب گل ہیں کہ تاثیر خزاں رکھتے ہیں

    عوض ملک جہاں ملک سخن ہے ناسخؔ

    گو نہیں حکم رواں طبع رواں رکھتے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY