دل پر وفا کا بوجھ اٹھاتے رہے ہیں ہم

شہاب جعفری

دل پر وفا کا بوجھ اٹھاتے رہے ہیں ہم

شہاب جعفری

MORE BYشہاب جعفری

    دل پر وفا کا بوجھ اٹھاتے رہے ہیں ہم

    اپنا ہر امتیاز مٹاتے رہے ہیں ہم

    منہ پر جو یہ جلے ہوئے دامن کی راکھ ہے

    شعلوں میں زندگی کے نہاتے رہے ہیں ہم

    اتنا نہ کھل سکا کہ ہوا کس طرف کی ہے

    سارے جہاں کی خاک اڑاتے رہے ہیں ہم

    آنکھوں سے دل تک ایک جہان سکوت ہے

    سنتے ہیں اس دیار سے جاتے رہے ہیں ہم

    تیرا خیال مانع عرض ہنر ہوا

    کس کس طرح سے جی کو جلاتے رہے ہیں ہم

    کس کی صدا سنی تھی کہ چپ لگ گئی شہابؔ

    ساتوں سروں کا بھید گنواتے رہے ہیں ہم

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY