دل سے ارماں نکل رہے ہیں

اختر سعید

دل سے ارماں نکل رہے ہیں

اختر سعید

MORE BYاختر سعید

    دل سے ارماں نکل رہے ہیں

    میرے بھی دن بدل رہے ہیں

    ورنہ گھر میں ہے گھپ اندھیرا

    یادوں کے چراغ جل رہے ہیں

    یہ عجب لوگ ہیں کہ ان کے

    پاؤں نہیں پہ چل رہے ہیں

    ہم در شاہ پر سوالی

    آج ہیں اور نہ کل رہے ہیں

    وہ ہی پہنچیں گے یار تک جو

    گرتے گرتے سنبھل رہے ہیں

    ہم نکو نام تو ہوئے پر

    دل پہ آرے سے چل رہے ہیں

    ان کو آزاد کر جو اب تک

    زیر حبس علل رہے ہیں

    ان کو محبوس کر جو کب سے

    قاعدے سب کچل رہے ہیں

    کہہ نہ کرب و بلا کا قصہ

    لفظوں کے دل دہل رہے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY