دل سے منظور تری ہم نے قیادت نہیں کی

مجید اختر

دل سے منظور تری ہم نے قیادت نہیں کی

مجید اختر

MORE BYمجید اختر

    دل سے منظور تری ہم نے قیادت نہیں کی

    یہ الگ بات ابھی کھل کے بغاوت نہیں کی

    ہم سزاوار جو ٹھہرے تو سبب ہے اتنا

    حکم حاکم پہ کبھی ہم نے اطاعت نہیں کی

    ہم نے مالک تجھے مانا ہے تو سچا مانا

    اس لیے تیری کبھی جھوٹی عبادت نہیں کی

    دوستی میں بھی فقط ایک چلن رکھا ہے

    دل نے انکار کیا ہے تو رفاقت نہیں کی

    تو نے خود چھوڑا محبت کا سفر یاد تو کر

    میں نے تو تجھ سے الگ ہو کے مسافت نہیں کی

    جھوم اٹھے گا اگر اس کو سناؤں جا کر

    یہ غزل میں نے ابھی نذر سماعت نہیں کی

    اس کو بھی اپنے رویے پہ کوئی عذر نہ تھا

    ہم بھی تھے اپنی انا میں سو رعایت نہیں کی

    یہ تو پھر تجھ سے محبت کا تھا قصہ مری جاں

    میرے کس فعل پہ دنیا نے ملامت نہیں کی

    تو نے چرچے کیے ہر جا مری رسوائی کے

    میں نے خود سے بھی کبھی تیری شکایت نہیں کی

    دوستوں کو بھی رہی وقت کی قلت اخترؔ

    حال دل ہم نے سنانے کی بھی عادت نہیں کی

    مأخذ :
    • کتاب : اردو غزل کا مغربی دریچہ(یورپ اور امریکہ کی اردو غزل کا پہلا معتبر ترین انتخاب) (Pg. 456)
    • مطبع : کتاب سرائے بیت الحکمت لاہور کا اشاعتی ادارہ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY