دل تنگ ہوں مکان کے اندر پڑا ہوا

نذیر قیصر

دل تنگ ہوں مکان کے اندر پڑا ہوا

نذیر قیصر

MORE BYنذیر قیصر

    دل تنگ ہوں مکان کے اندر پڑا ہوا

    باہر ابد کا قفل ہے در پر پڑا ہوا

    مجھ پر گراں گزرتی ہے میری صدا کی گونج

    چپ ہوں درون گنبد بے در پڑا ہوا

    ممکن جو ہو تو ایک نظر مڑ کے دیکھ لے

    اک نقش ہے زمین پہ مٹ کر پڑا ہوا

    میں ہی نہیں ہوں دن کے بگولے کے ساتھ ساتھ

    سورج کے پاؤں میں بھی ہے چکر پڑا ہوا

    کھل ہی گئی ہے آنکھ تو آواز دے کے دیکھ

    خاموش کیوں ہے شب کا سمندر پڑا ہوا

    بیٹھا ہوا ہوں چھپ کے ہوا کے حصار میں

    ہر سمت ہے غنیم کا لشکر پڑا ہوا

    مجھ کو ہوائیں چلنے سے پہلے سمیٹ لو

    میں رہ گزار میں ہوں بکھر کر پڑا ہوا

    جیسے ہو کوئی میرے تعاقب میں رات دن

    اپنے وجود کا ہے مجھے ڈر پڑا ہوا

    میں چھپتا پھر رہا ہوں خود اپنی ہی ذات سے

    قیصرؔ مرا عذاب ہے مجھ پر پڑا ہوا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے