دل وہ شے ہے کہ جو دیکھے تو کھچے یار کے ساتھ

قربان علی سالک بیگ

دل وہ شے ہے کہ جو دیکھے تو کھچے یار کے ساتھ

قربان علی سالک بیگ

MORE BYقربان علی سالک بیگ

    دل وہ شے ہے کہ جو دیکھے تو کھچے یار کے ساتھ

    یہ دکاں وہ ہے کہ چلتی ہے خریدار کے ساتھ

    ایک دم بھر کے لیے ہم نہ لگایا تھا گلے

    عمر ہی کٹ گئی قاتل تری تلوار کے ساتھ

    طعنۂ ظلم و ستم لیلیٰ و شیریں پہ عبث

    کیا کیا آپ نے عشق دل افگار کے ساتھ

    تیغ چل نکلی دم قتل گلے پر میرے

    میں نے تشبیہ جو دی ابروئے خم دار کے ساتھ

    حشر اغیار کا شداد کے ہوگا ہم راہ

    جھوٹ کہتا ہوں تو بس حشر ہو اغیار کے ساتھ

    نہ ڈریں خلد میں جاتے ہوئے جو رضواں سے

    اس کے دروازے پہ رک جائیں خبردار کے ساتھ

    سو گئے بخت شب وعدہ یہ مجھ سے کہہ کر

    کون جاگا ہے ترے دیدۂ بے دار کے ساتھ

    اس قدر چرب زبانی نہیں اچھی اے شمع

    بزم جاناں میں زباں کٹتی ہے گفتار کے ساتھ

    حشر میں ظالم و مظلوم جدا ہوں گے دریغ

    ہائے واں بھی نہ رہے اس بت عیار کے ساتھ

    ہائے افسوس ہے سالکؔ کی جواں مرگی کا

    عشق کی بات گئی اس جگر افگار کے ساتھ

    مآخذ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY