دن کی آہیں نہ گئیں رات کے نالے نہ گئے

جلیل مانک پوری

دن کی آہیں نہ گئیں رات کے نالے نہ گئے

جلیل مانک پوری

MORE BYجلیل مانک پوری

    دن کی آہیں نہ گئیں رات کے نالے نہ گئے

    میرے دل سوز مرے چاہنے والے نہ گئے

    اپنے ماتھے کی شکن تم سے مٹائی نہ گئی

    اپنی تقدیر کے بل ہم سے نکالے نہ گئے

    تذکرہ سوز محبت کا کیا تھا اک بار

    تا دم مرگ زباں سے مری چھالے نہ گئے

    شمع رو ہو کے فقط تم نے جلانا سیکھا

    میرے غم میں کبھی دو اشک نکالے نہ گئے

    آج تک ساتھ ہیں سرکار جنوں کے تحفے

    سر کا چکر نہ گیا پاؤں کے چھالے نہ گئے

    وہ بھلا پیچ نکالیں گے مری قسمت کے

    اپنے بالوں کے تو بل ان سے نکالے نہ گئے

    کوئی شب ایسی نہ گزری کہ بنا کر گیسو

    سیکڑوں بل مری تقدیر میں ڈالے نہ گئے

    ہم سفر ایسے وفادار کہاں ملتے ہیں

    تیرے وحشی کے قدم چھوڑ کے چھالے نہ گئے

    اپنا دیوان مرقع ہے حسینوں کا جلیلؔ

    نکتہ چیں تھک گئے کچھ عیب نکالے نہ گئے

    مآخذ:

    • کتاب : Kainat-e-Jalil Manakpuri (Pg. 133)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY