دن کی بے درد تھکن چہرے پہ لے کر مت جا

قیصر الجعفری

دن کی بے درد تھکن چہرے پہ لے کر مت جا

قیصر الجعفری

MORE BYقیصر الجعفری

    دن کی بے درد تھکن چہرے پہ لے کر مت جا

    بام و در جاگ رہے ہوں گے ابھی گھر مت جا

    میرے پرکھوں کی وراثت کا بھرم رہنے دے

    تو حویلی کو کھلا دیکھ کے اندر مت جا

    بوند بھر درد سنبھلتا نہیں کم ظرفوں سے

    رکھ کے تو اپنی ہتھیلی پہ سمندر مت جا

    پھوٹنے دے مری پلکوں سے ذرا اور لہو

    اے مری نیند ابھی چھوڑ کے بستر مت جا

    کچھ تو رہنے دے ابھی ترک وفا کی خاطر

    تجھ کو جانا ہے تو جا ہاتھ جھٹک کر مت جا

    اور کچھ دیر یہ مشق نگہ ناز سہی

    سامنے بیٹھ ابھی پھینک کے خنجر مت جا

    دھوپ کیا ہے تجھے اندازہ نہیں ہے قیصرؔ

    آبلے پاؤں میں پڑ جائیں گے باہر مت جا

    مآخذ:

    • کتاب : Agar Darya Mila Hota (Pg. 79)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY