دوبارہ معجزہ ہو جائے گا کیا

ندیم سرسوی

دوبارہ معجزہ ہو جائے گا کیا

ندیم سرسوی

MORE BYندیم سرسوی

    دوبارہ معجزہ ہو جائے گا کیا

    وہ پاگل پھر مرا ہو جائے گا کیا

    لہو تازہ زمیں پر تھوکنے سے

    جنوں کا حق ادا ہو جائے گا کیا

    یہ دل بیت الشرف ہے حادثوں کا

    یہ دل مسکن ترا ہو جائے گا کیا

    اندھیری رات کا دامن جلا کر

    چراغوں کا بھلا ہو جائے گا کیا

    تری آنکھوں میں پل بھر جھانکنے سے

    محبت کا نشہ ہو جائے گا کیا

    جسے حاصل کیا سب کچھ گنوا کر

    وہ ایسے ہی جدا ہو جائے گا کیا

    ضرورت جس کے آگے سر جھکا دے

    بتاؤ وہ خدا ہو جائے گا کیا

    قیافہ پارسائی کا بنا کر

    تو سچ میں پارسا ہو جائے گا کیا

    اگر میں پھوڑ دوں سورج کی آنکھیں

    اندھیرا جا بہ جا ہو جائے گا کیا

    کئی راتیں مسلسل جاگنے سے

    تو اک شاعر بڑا ہو جائے گا کیا

    مرے اک لمس کی حدت پہن کر

    وہ پتھر موم کا ہو جائے گا کیا

    ہمارے بے بضاعت فاصلوں سے

    تعلق ناروا ہو جائے گا کیا

    وہ کہتے ہیں بنی لمحے میں دنیا

    یہ سب کچھ برملا ہو جائے گا کیا

    حقیقت میں تو میرے سامنے ہے

    یہ منظر خواب سا ہو جائے گا کیا

    ندیمؔ اب مان جا اشعار مت لکھ

    تو یوں ہی باؤلا ہو جائے گا کیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY