دوست کچھ اور بھی ہیں تیرے علاوہ مرے دوست

ادریس بابر

دوست کچھ اور بھی ہیں تیرے علاوہ مرے دوست

ادریس بابر

MORE BYادریس بابر

    دوست کچھ اور بھی ہیں تیرے علاوہ مرے دوست

    کئی صحرا مرے ہمدم کئی دریا مرے دوست

    تو بھی ہو میں بھی ہوں اک جگہ پہ اور وقت بھی ہو

    اتنی گنجائشیں رکھتی نہیں دنیا مرے دوست!

    تیری آنکھوں پہ مرا خواب سفر ختم ہوا

    جیسے ساحل پہ اتر جائے سفینہ مرے دوست!

    زیست بے معنی وہی بے سر و سامانی وہی

    پھر بھی جب تک ہے تری دھوپ کا سایا مرے دوست!

    اب تو لگتا ہے جدائی کا سبب کچھ بھی نہ تھا

    آدمی بھول بھی سکتا ہے نہ رستا مرے دوست!

    راہ تکتے ہیں کہیں دور کئی سست چراغ

    اور ہوا تیز ہوئی جاتی ہے اچھا مرے دوست!

    مآخذ
    • کتاب : Ghazal Calendar-2015 (Pg. 28.01.2015)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY