دوستو تم نے بھی دیکھی ہے وہ صورت وہ شبیہ (ردیف .. ح)

دلکش ساگری

دوستو تم نے بھی دیکھی ہے وہ صورت وہ شبیہ (ردیف .. ح)

دلکش ساگری

MORE BY دلکش ساگری

    دوستو تم نے بھی دیکھی ہے وہ صورت وہ شبیہ

    جو نگاہوں میں سما جاتی ہے منظر کی طرح

    مجھ کو اک قطرۂ بے فیض سمجھ کے نہ گزر

    پھیل جاؤں گا کسی روز سمندر کی طرح

    شہر آشوب میں چیزوں کا کوئی قحط نہیں

    زخم ملتے ہیں دکانوں میں گل تر کی طرح

    اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں نہیں ہے شاید

    ہائے وہ زلف جو کھل جائے مقدر کی طرح

    مجھ سے اتراؤ نہ یارو کہ مجھے ہے معلوم

    آپ کا گھر کہ شکستہ ہے مرے گھر کی طرح

    دل نے کچھ خواب تو دیکھے تھے مگر کیا کیجے

    وہ بھی گم ہو گئے تالاب میں پتھر کی طرح

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY