دعائیں مانگیں ہیں مدتوں تک جھکا کے سر ہاتھ اٹھا اٹھا کر

گویا فقیر محمد

دعائیں مانگیں ہیں مدتوں تک جھکا کے سر ہاتھ اٹھا اٹھا کر

گویا فقیر محمد

MORE BYگویا فقیر محمد

    دعائیں مانگیں ہیں مدتوں تک جھکا کے سر ہاتھ اٹھا اٹھا کر

    ہوا ہوں تب میں بتوں کا بندہ خدا خدا کر خدا خدا کر

    دعا لب جام نے بھی مانگی سبو نے بھی ہاتھ اٹھا اٹھا کر

    ہماری محفل میں آیا ساقی خدا خدا کر خدا خدا کر

    دکھایا وحدت نے اپنا جلوہ دوئی کا پردہ اٹھا اٹھا کر

    کروں میں سجدہ بتوں کے آگے تو اے برہمن خدا خدا کر

    ہیں اشک زخموں سے میرے جاری نہ دیکھی ہوگی یہ اشک باری

    بنی ہیں چشم پر آب قاتل یہ زخم پانی چرا چرا کر

    کہاں وہ شکلیں کہاں وہ باتیں کہاں وہ جلسے کہاں وہ محفل

    یہ سب کا سب خواب کا تھا ساماں چھپا لیا بس دکھا دکھا کر

    برنگ ساغر ملا دیا منہ جو منہ سے تیرے خفا نہ ہونا

    کیا ہے بے ہوش تو نے ساقی شراب مجھ کو پلا پلا کر

    اٹھایا یاروں نے پر نہ اٹھا زمیں سے ہرگز ہمارا لاشہ

    یہ کس نے ہم کو ہے مار ڈالا نظر سے اپنی گرا گرا کر

    جو پہنچیں ہم مرغ نامہ بر کو تو چٹکیوں میں اسے اڑا دے

    اگر چہ وہ طفل کھیلتا ہے پر کبوتر اڑا اڑا کر

    پس از فنا بھی اگر تو آئے کروں سگ یار میہمانی

    کہ استخوانوں کو اپنے تن میں رکھا ہما سے چھپا چھپا کر

    گرے اگر سرکشی ہو مجھ سے ابھی فلک کو زمیں پہ پٹکوں

    کہ توڑ ڈالے میں ایسے مینے ہزاروں شیشے اٹھا اٹھا کر

    کبھی مرے دل سے کرتی ہیں بل کہی ہیں شانے سے یہ الجھتیں

    غرض کہ زلفوں کو تو نے ظالم بگاڑا ہے سر چڑھا چڑھا کر

    شکست لکھتا تھا نام دل کا یہی تھی طفلی میں مشق تیری

    بنا دیا دل شکن یہ تجھ کو معلموں نے لکھا لکھا کر

    بڑے گلے ہیں اجل کو تجھ سے مسیح کو بھی بہت ہیں شکوے

    کہ دم میں تو نے ہیں مار ڈالے ہزاروں مردے جلا جلا کر

    پلانا پانی کا جام زاہد گناہ مشرب میں ہے ہمارے

    ثواب لیتا نہیں ہے کیوں تو شراب مجھ کو پلا پلا کر

    نہیں کوئی رازدار ہم سا کیا نہ وحشت میں تجھ کو رسوا

    کہ داغ مانند خار ماہی بدن میں رکھے چھپا چھپا کر

    گلے ہزاروں نے اپنے کاٹے ہزاروں بے وجہ ہو گئے خون

    بہت ہوا پھر تو یار نادم کف حنائی دکھا دکھا کر

    نگہ کی صورت پھرو نہ ہر سو حجاب تم مردمک سے سیکھو

    اب آؤ آنکھوں میں سیر دیکھو مژہ کی چلمن اٹھا اٹھا کر

    دکھا کے گل سے عذار تو نے کیا دل عاشقاں کو بلبل

    بنا دیے گوش غیرت گل صدائے رنگیں سنا سنا کر

    گناہ کرتا ہے برملا تو کسی سے کرتا نہیں حیا تو

    خدا کو کیا منہ دکھائے گا تو ذرا تو اے بے حیا حیا کر

    چلا ہے محفل سے اپنے ساقی دکھاؤں میں اپنی اشک باری

    کروں بط مے کو مرغ آبی ابھی سے دریا بہا بہا کر

    رلائے برسوں ہنسی تو جس سے دکھائے گر زلف مار رکھے

    کرے تو در پردہ راہ دل میں جو دیکھے پردہ اٹھا اٹھا کر

    وہی اثر ہے جنوں کا اب تک وہی ہے لڑکوں کو اب بھی کاوش

    کہ میری مٹی کے روز مجنوں بگاڑتے ہیں بنا بنا کر

    عجب نہیں نامۂ عمل کا دلا ہو کاغذ اگر خطا کے

    خطائیں کیں میں نے آشکارا کیے ہیں عصیاں چھپا چھپا کر

    اثر ہے چاہ ذقن کی الفت کا بعد مردن بھی آہ باقی

    کہ کھیلتی ہیں ہماری مٹی کے ڈول لڑکے بنا بنا کر

    کیا ہے پوشیدہ عشق ہم نے کسی سے در پردہ ہے محبت

    پڑے ہوئے بستر الم پر جو روتے ہیں منہ چھپا چھپا کر

    جو خوف طوفان اشک سے اب نہیں ہے جاتا نہ جائے قاصد

    رواں کروں سوئے یار جانی خطوں کی ناویں بنا بنا کر

    ترا سا قد بن سکا نہ ہرگز تری سی صورت نہ بن سکی پھر

    اگر چہ صانع نے لاکھوں نقشے بگاڑ ڈالے بنا بنا کر

    ادھر مژہ نے لگائی برچھی ادھر نگاہوں نے تیر مارے

    شکست دی فوج صبر دل کو یہ کس نے آنکھیں لڑا لڑا کر

    کٹی ہے گویا شب جوانی بس آن پہنچی ہے صبح پیری

    بہت سی کی تو نے بت پرستی اب ایک دو دن خدا خدا کر

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY