دکھ اٹھاؤ کتنے ہی گھر بہار کرنے میں

حسن اکبر کمال

دکھ اٹھاؤ کتنے ہی گھر بہار کرنے میں

حسن اکبر کمال

MORE BYحسن اکبر کمال

    دکھ اٹھاؤ کتنے ہی گھر بہار کرنے میں

    ایک پل نہیں لگتا پھول سب بکھرنے میں

    زندگی ہو کیسی بھی اس سے جی نہیں بھرتا

    ورنہ صرف ہوتا ہے کتنا وقت مرنے میں

    کھڑکیاں ہوئیں خالی پھولوں اور چراغوں سے

    کیسا دل تڑپتا ہے شہر سے گزرنے میں

    وقت زخم بھرتا ہے اور یوں بھی ہوتا ہے

    عمر بیت جاتی ہے ایک زخم بھرنے میں

    سب کی بات دہرانا یوں تو رسم دنیا ہے

    لطف اور ہے لیکن اپنی بات کرنے میں

    جا بسی ہے وہ لڑکی شہر میں مگر اب بھی

    گونجتے ہیں گیت اس کے ہر پہاڑی جھرنے میں

    مأخذ :
    • کتاب : Khizan mera Mosam (Pg. 171)
    • Author : Hassan Akbar Kamal
    • مطبع : Seep Publications, karachi (1980)
    • اشاعت : 1980

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY