دکھاتی ہے دل پھر محبت کسی کی

امداد علی بحر

دکھاتی ہے دل پھر محبت کسی کی

امداد علی بحر

MORE BYامداد علی بحر

    دکھاتی ہے دل پھر محبت کسی کی

    کہ آنکھوں میں پھرتی ہے صورت کسی کی

    نہ پوچھو یہ ہیں سکۂ داغ کس کے

    یہ دولت ملی ہے بدولت کسی کی

    پر ارمان احباب دنیا سے اٹھے

    فلک نے نکالی نہ حسرت کسی کی

    یہ عالم ہے اپنا کہ کہتا ہے عالم

    الٰہی نہ ہو ایسی حالت کسی کی

    عجب بے مروت سے پالا پڑا ہے

    کہاں تک کرے کوئی منت کسی کی

    اڑا لے گئی سرو سے قمریوں کو

    قیامت ہے بوٹا سی قامت کس کی

    میں اس دل کا ساتھی نہیں عاشقی میں

    بلا میری لے سر پر آفت کسی کی

    نظر میں ہیں یاران رفتہ کے جلسے

    خوش آتی نہیں مجھ کو صحبت کسی کی

    وہ کیا دن تھے اے دل تجھے یاد ہے کچھ

    وہ میری خوشامد وہ نخوت کسی کی

    بہت بد ہے اے عشق سرکار تیرے

    نہ عزت کسی کی نہ حرمت کسی کی

    شکنجے میں رہتا ہے دل آدمی کا

    خدا بند رکھے نہ حاجت کسی کی

    کہے مجھ کو جو جس کا جی چاہے لیکن

    کبھی مجھ سے ہوگی نہ غیبت کسی کی

    عبث بحرؔ مرتے ہو تم ہر کسی پر

    مبارک نہیں تم کو چاہت کسی کی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY