دنیا کو ہر چیز دکھائی جا سکتی ہے

رینو نیر

دنیا کو ہر چیز دکھائی جا سکتی ہے

رینو نیر

MORE BYرینو نیر

    دنیا کو ہر چیز دکھائی جا سکتی ہے

    پتھر میں بھی آنکھ بنائی جا سکتی ہے

    دل کی مٹی کی زرخیزی ایسی ہے کہ

    کیسی بھی ہو چیز اگائی جا سکتی ہے

    ہجر کا موسم وو موسم ہے جس میں جاناں

    آنکھوں میں بھی رات بتائی جا سکتی ہے

    پتھر کو ٹھوکر کی حد تک تم نہ جانو

    پتھر سے تو آگ لگائی جا سکتی ہے

    خود کے ہونے کا احساس دلاتا ہے وو

    اس ڈر سے کے اس کی خدائی جا سکتی ہے

    دل کی بازی ایسی بازی ہے جس میں ہم

    ہاریں بھی تو جیت منائی جا سکتی ہے

    مجھ کو سارے نقش ادھورے دکھتے ہیں اب

    یعنی مجھ پہ گاج گرائی جا سکتی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY