دوپٹا وہ گلنار دکھلا گئے

امداد علی بحر

دوپٹا وہ گلنار دکھلا گئے

امداد علی بحر

MORE BYامداد علی بحر

    دوپٹا وہ گلنار دکھلا گئے

    نئے سر سے پھر آگ بھڑکا گئے

    تمہاری ضدوں سے ہم اکتا گئے

    کسی روز سن لینا کچھ کھا گئے

    ہماری فغاں سے نہ مانو برا

    کہاں تک کریں ضبط گھبرا گئے

    قفس سے چھٹے کن دنوں یا نصیب

    کہ پتے بھی پھولوں کے مرجھا گئے

    گئے میرے دشمن کے پھولوں میں وہ

    مجھے غم کے کانٹوں میں الجھا گئے

    ہمارے گل اندام کا ہے یہ رنگ

    ذرا دھوپ میں نکلے سنولا گئے

    یہ سر چوٹ فرقت کے صدمے رہی

    بہت کاسۂ سر میں بال آ گئے

    لحد میں گرے جب ہوا سر سفید

    پڑی دھوپ ایسی کہ تیورا گئے

    نہ پہنچی چمن تک خزاں آ گئی

    دلوں کے کنول کھل کے کمھلا گئے

    کسی کی وہ زلفیں جو یاد آ گئیں

    مرے سینے پر سانپ لہرا گئے

    فلک ابر کی طرح پھٹ جائے گا

    مرے نالے جس روز ٹکرا گئے

    ہر اک بات کی تہ سمجھنے لگے

    بہت دور ہو ہم تمہیں پا گئے

    ہوا دھوپ میں بھی نہ کم حسن یار

    کنھیا بنے وہ جو سنولا گئے

    نہ جوبن ابھرنے دیا ناز نے

    دوپٹا جو سرکا تو شرما گئے

    میاں بحرؔ کیوں چپکے چپکے ہو آج

    جو میہمان آئے تھے وہ کیا گئے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY