دشمن پہ رکھ کے دیتے ہو گالی عتاب میں

مرزا قادر بخش صابر دہلوی

دشمن پہ رکھ کے دیتے ہو گالی عتاب میں

مرزا قادر بخش صابر دہلوی

MORE BYمرزا قادر بخش صابر دہلوی

    دشمن پہ رکھ کے دیتے ہو گالی عتاب میں

    ہے ہر سخن زباں پہ تمہاری حجاب میں

    بحر جہاں میں زیست نہ ہو کیوں حباب وار

    نقطوں ہی کا ہے فرق حیات و حباب میں

    آنکھیں یہ عاشقوں کی ہیں تجھ پر لگی ہوئیں

    چھاپے نہیں ہیں یہ گل نرگس نقاب میں

    ہم آبخورۂ خم مے کی طرح عسس

    ڈوبے رہیں مدام گلے تک شراب میں

    بعد فنا بھی شاہسوار سمند ناز

    حاضر ہیں مثل ریگ رواں ہم رکاب میں

    دوزخ نصیب مردم آبی کو ہو ابھی

    ٹپکے جو اشک گرم کوئی اپنا آب میں

    ہر دم روا روی میں ہے یہ توسن حباب

    ہر وقت اپنا پاؤں ہے گویا رکاب میں

    دریا کا نام شور سے منسوب ہو گیا

    دھویا جو تم نے لعل نمک سا کو آب میں

    صابرؔ فقط سخن میں ہے اب لطف عاشقی

    ہر بات کا مزہ تھا شروع شباب میں

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے