ڈوبتے سورج کا منظر وہ سہانی کشتیاں

شمیم فاروقی

ڈوبتے سورج کا منظر وہ سہانی کشتیاں

شمیم فاروقی

MORE BY شمیم فاروقی

    ڈوبتے سورج کا منظر وہ سہانی کشتیاں

    پھر بلاتی ہیں کسی کو بادبانی کشتیاں

    اک عجب سیلاب سا دل کے نہاں خانے میں تھا

    ریت ساحل دور تک پانی ہی پانی کشتیاں

    موج دریا نے کہا کیا ساحلوں سے کیا ملا

    کہہ گئیں کل رات سب اپنی کہانی کشتیاں

    خامشی سے ڈوبنے والے ہمیں کیا دے گئے

    ایک انجانے سفر کی کچھ نشانی کشتیاں

    ایک دن ایسا بھی آیا حلقۂ گرداب میں

    کسمسا کر رہ گئیں خوابوں کی دھانی کشتیاں

    آج بھی اشکوں کے اس گہرے سمندر میں شمیمؔ

    تیرتی پھرتی ہیں یادوں کی پرانی کشتیاں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY