دور ویرانے میں مجھ کو بھی صدا دے کوئی
دور ویرانے میں مجھ کو بھی صدا دے کوئی
چاند نکلا نہیں شاخوں کو جلا دے کوئی
کوئی پردہ ہے نہ رنگوں کی فراوانی ہے
دشت کی ریت پہ تصویر بنا دے کوئی
اتنی اونچائی پہ بنیاد ستم گاری ہے
کیسے ممکن ہے کہ دیوار گرا دے کوئی
مجھ پہ فطرت کے حسیں راز ہوئے ہیں روشن
جس طرح چہرہ لب بام دکھا دے کوئی
کتنے سالوں سے میں رویا نہیں ماتم کر کے
غالبؔ و میرؔ کے اشعار سنا دے کوئی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.