اعجاز جاں دہی ہے ہمارے کلام کو

مومن خاں مومن

اعجاز جاں دہی ہے ہمارے کلام کو

مومن خاں مومن

MORE BYمومن خاں مومن

    اعجاز جاں دہی ہے ہمارے کلام کو

    زندہ کیا ہے ہم نے مسیحا کے نام کو

    لکھو سلام غیر کے خط میں غلام کو

    بندے کا بس سلام ہے ایسے سلام کو

    اب شور ہے مثال جو دی اس خرام کو

    یوں کون جانتا تھا قیامت کے نام کو

    آتا ہے بہر قتل وہ دور اے ہجوم یاس

    گھبرا نہ جائے دیکھ کہیں ازدحام کو

    گو آپ نے جواب برا ہی دیا ولے

    مجھ سے بیاں نہ کیجے عدو کے پیام کو

    یاں وصل ہے تلافی ہجراں میں اے فلک

    کیوں سوچتا ہے تازہ ستم انتقام کو

    تیرے سمند ناز کی بے جا شرارتیں

    کرتے ہیں آگ نالۂ اندیشہ کام کو

    گریے پہ میرے زندہ دلو ہنستے کیا ہو آہ

    روتا ہوں اپنے میں دل جنت مقام کو

    سہ سہ کے نادرست تری خو بگاڑ دی

    ہم نے خراب آپ کیا اپنے کام کو

    اس سے جلا کے غیر کو امید پختگی

    لگ جائے آگ دل کے خیالات خام کو

    بخت سپید آئنہ داری کرے تو میں

    دکھلاؤں دل کے جور اس آئینہ فام کو

    جب تو چلے جنازۂ عاشق کے ساتھ ساتھ

    پھر کون وارثوں کے سنے اذن عام کو

    شاید کہ دن پھرے ہیں کسی تیرہ روز کے

    اب غیر اس گلی میں نہیں پھرتے شام کو

    مدت سے نام سنتے تھے مومنؔ کا بارے آج

    دیکھا بھی ہم نے اس شعرا کے امام کو

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY