ایک مدت سے تو ٹھہرے ہوئے پانی میں ہوں میں

عمران بدایوںی

ایک مدت سے تو ٹھہرے ہوئے پانی میں ہوں میں

عمران بدایوںی

MORE BY عمران بدایوںی

    ایک مدت سے تو ٹھہرے ہوئے پانی میں ہوں میں

    اور حد یہ ہے کہ کہنا ہے روانی میں ہوں میں

    زندگی جکڑے ہوئے تھی مرے اندر مجھ کو

    موت کے بعد لگا جیسے روانی میں ہوں میں

    میرے ہونے پہ جہاں مجھ کو ہی شک ہوتا تھا

    آج اس شہر کی نایاب نشانی میں ہوں میں

    میرا کردار تو بالکل بھی نہیں مجھ جیسا

    کوئی بتلائے مجھے کس کی کہانی میں ہوں میں

    کتنی ہی طرح سے کاغذ پہ لکھوں خود کو مگر

    مجھ کو معلوم ہے بس ایک معانی میں ہوں میں

    خود کو تعمیر کروں اور بکھر بھی جاؤں

    اپنی ناکام تمناؤں کے ثانی میں ہوں میں

    قبر ویران مرے جسم سے بڑھ کر تو نہیں

    کس لیے خوف زدہ نقل مکانی میں ہوں میں

    حادثے درد گھٹن سارے وہی ہیں کیول

    اب کے کردار کسی اور کہانی میں ہوں میں

    میرے جذبات تو بوڑھوں کی طرح لگتے ہیں

    صرف چہرہ یہ بتاتا ہے جوانی میں ہوں میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY