ایک نئے سانچے میں ڈھل جاتا ہوں میں

بھارت بھوشن پنت

ایک نئے سانچے میں ڈھل جاتا ہوں میں

بھارت بھوشن پنت

MORE BY بھارت بھوشن پنت

    ایک نئے سانچے میں ڈھل جاتا ہوں میں

    قطرہ قطرہ روز پگھل جاتا ہوں میں

    جب سے وہ اک سورج مجھ میں ڈوبا ہے

    خود کو بھی چھو لوں تو جل جاتا ہوں میں

    آئینہ بھی حیرانی میں ڈوبا ہے

    اتنا کیسے روز بدل جاتا ہوں میں

    میٹھی میٹھی باتوں میں معلوم نہیں

    جانے کتنا زہر اگل جاتا ہوں میں

    اب ٹھوکر کھانے کا مجھ کو خوف نہیں

    گرتا ہوں تو اور سنبھل جاتا ہوں میں

    اکثر اب اپنا پیچھا کرتے کرتے

    خود سے کتنی دور نکل جاتا ہوں میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY