ایک پیکر یوں چمک اٹھا ہے میرے دھیان میں

افضل منہاس

ایک پیکر یوں چمک اٹھا ہے میرے دھیان میں

افضل منہاس

MORE BYافضل منہاس

    ایک پیکر یوں چمک اٹھا ہے میرے دھیان میں

    کوئی جگنو اڑ رہا ہو جس طرح طوفان میں

    ہر بگولہ بستیوں کی سمت لہرانے لگا

    آشنا چہرے بھی اب آتے نہیں پہچان میں

    کیا قیامت ہے کہ کوئی پوچھنے والا نہیں

    زندگی تنہا کھڑی ہے حشر کے میدان میں

    وقت پڑتے ہی ہوئے روپوش سب حلقہ بگوش

    اک یہی خوبی تو ہے اس دور کے انسان میں

    آئنے یادوں کے میں نے توڑ ڈالے تھے مگر

    چند چہرے پھر ابھر آئے مرے وجدان میں

    لوگ میری موت کے خواہاں ہیں افضلؔ کس لیے

    چند غزلوں کے سوا کچھ بھی نہیں سامان میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY