فائدہ کچھ نہیں اشاروں سے

شوق مرادابادی

فائدہ کچھ نہیں اشاروں سے

شوق مرادابادی

MORE BYشوق مرادابادی

    فائدہ کچھ نہیں اشاروں سے

    ہم بہت دور ہیں کناروں سے

    دل منور ہوا شراروں سے

    ہم کو نسبت ہے چاند تاروں سے

    خوب مہکے خزاں کے موسم میں

    زخم کھائے تھے جو بہاروں سے

    گلستاں آپ کو مبارک ہو

    اپنی عظمت سے ریگ زاروں سے

    پھول برسے ہیں بعد مرگ ان پر

    شغل کرتے رہے جو خاروں سے

    یاد پھر رنگ میں نظر آئی

    زندگی بھر گئی نظاروں سے

    انتظاری تو جان لے لیتی

    صبر ملتا رہا ستاروں سے

    کوئی آواز جب نہیں ہوتی

    ساز بجھتے ہیں دل کے تاروں سے

    دل کی گہرائیاں کہاں تک ہیں

    شوقؔ پوچھو یہ غم کے ماروں سے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY