فانی کہاں ہے ہستئ فانی کا شور بھی

رفیق راز

فانی کہاں ہے ہستئ فانی کا شور بھی

رفیق راز

MORE BYرفیق راز

    فانی کہاں ہے ہستئ فانی کا شور بھی

    شامل ہے اس میں نقل مکانی کا شور بھی

    حساس ہوں اور اس پہ وہ شدت کی پیاس ہے

    سنتا ہوں اب سراب میں پانی کا شور بھی

    ایسا سکوت تھا کہ سنائی دیا مجھے

    حرف تہی میں موج معانی کا شور بھی

    بے برگ و بار پیڑ سے رہتے ہیں دور دور

    رہگیر بھی ہوائے خزانی کا شور بھی

    خاکستر بدن میں سلگتی ہے کوئی چیز

    بجھتا نہیں ابھی یہ جوانی کا شور بھی

    تیری غزل پڑھی تو یہ جانا رفیقؔ راز

    پانی کے شور میں ہے روانی کا شور بھی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے