فلک سے چاند تاروں کو اترتا دیکھتا ہوں میں

نوید انجم

فلک سے چاند تاروں کو اترتا دیکھتا ہوں میں

نوید انجم

MORE BYنوید انجم

    فلک سے چاند تاروں کو اترتا دیکھتا ہوں میں

    ہمیشہ جاگتی آنکھوں سے سپنا دیکھتا ہوں میں

    مجھے معلوم ہے غربت ابھی بننے نہیں دے گی

    بنا کر روز لیکن گھر کا نقشہ دیکھتا ہوں میں

    ہماری بے معاشی نے ہمیں یہ دن دکھائے ہیں

    جواں چہروں پہ بھی اکثر بڑھاپا دیکھتا ہوں میں

    مجھے مل جائیں شاید کچھ مرے بچھڑے ہوئے ساتھی

    اسی امید پہ دنیا کا میلہ دیکھتا ہوں میں

    ملے کوئی بھلا کیوں مجھ سے انجمؔ آئنہ لے کر

    ہمیشہ دوسروں کو خود سے اچھا دیکھتا ہوں میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY