فریب شب کا گرفتار رہوں بچاؤ مجھے

ماہر عبدالحی

فریب شب کا گرفتار رہوں بچاؤ مجھے

ماہر عبدالحی

MORE BYماہر عبدالحی

    فریب شب کا گرفتار رہوں بچاؤ مجھے

    جلا کے شمع کوئی راستہ دکھاؤ مجھے

    زبان حال سے کہتی ہے یاد ماضی کی

    تمہاری راہ کی دیوار ہوں گراؤ مجھے

    کہاں ہوں دشت طلب میں مجھے پتا تو چلے

    مرا بھی نام پکارو کوئی بلاؤ مجھے

    میں نم زمین کا پودا ہوں سوکھ جاؤں گا

    سلگتی دھوپ کے صحرا میں مت لگاؤ مجھے

    کوئی متاع ہنر دست بے ہنر کے لئے

    کہانیاں نہ کرامات کی سناؤ مجھے

    بٹھا کے نیچے گھٹاتے ہو کیوں مجھے ہر بار

    بھلے کو اپنے کبھی داہنے بٹھاؤ مجھے

    مرے سلوک کی صورت بدل نہیں سکتی

    ہزار ظلم و ستم کر کے آزماؤ مجھے

    یہ بے رخی یہ تغافل کہاں تلک پیارے

    تمہارے کام ہی آؤں گا مت گنواؤ مجھے

    نگل نہ جائے کہیں مجھ کو دشت خاموشی

    اکیلا چھوڑ کے جاؤ نہ اے صداؤ مجھے

    مجھے بھی شوق ہے پڑھنے کا یہ کتاب غزل

    کہیں سے مفت میں ہاتھ آئے تو بتاؤ مجھے

    مآخذ :
    • کتاب : Hari Sonahri Khak (Ghazal) (Pg. 69)
    • Author : Mahir Abdul Hayee
    • مطبع : Bazme-e-Urdu,Mau (2008)
    • اشاعت : 2008

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY