فضا میں کیسی اداسی ہے کیا کہا جائے

مخمور سعیدی

فضا میں کیسی اداسی ہے کیا کہا جائے

مخمور سعیدی

MORE BYمخمور سعیدی

    فضا میں کیسی اداسی ہے کیا کہا جائے

    عجیب شام یہ گزری ہے کیا کہا جائے

    کئی گمان ہمیں زندگی پہ گزرے ہیں

    یہ اجنبی ہے کہ اپنی ہے کیا کہا جائے

    وہ دھوپ دشمن جاں تھی سو تھی خموش تھے ہم

    یہ چاندنی ہمیں ڈستی ہے کیا کہا جائے

    یہاں بھی دل پہ اداسی کا چھا رہا ہے دھواں

    یہ رنگ و نور کی بستی ہے کیا کہا جائے

    کوئی پیام ہمارے لیے نہیں نہ سہی

    مگر صدا تو اسی کی ہے کیا کہا جائے

    ہمارے عہد کے الجھے ہوئے سوالوں کا

    جواب صرف خموشی ہے کیا کہا جائے

    زباں پہ شکر و شکایت کے سو فسانے ہیں

    مگر جو دل پہ گزرتی ہے کیا کہا جائے

    تمام شہر کو کیوں چپ لگی ہے کیا جانیں

    گھٹن دلوں میں یہ کیسی ہے، کیا کہا جائے

    شناخت دوست نہ دشمن کی معتبر مخمورؔ

    ہر ایک شکل ہی دھندلی ہے کیا کہا جائے

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    فضا میں کیسی اداسی ہے کیا کہا جائے نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY