گدائے شہر آئندہ تہی کاسہ ملے گا

ثروت حسین

گدائے شہر آئندہ تہی کاسہ ملے گا

ثروت حسین

MORE BY ثروت حسین

    گدائے شہر آئندہ تہی کاسہ ملے گا

    تجاوز اور تنہائی کی حد پر کیا ملے گا

    سیاہی پھیرتی جاتی ہیں راتیں بحر و بر پہ

    انہی تاریکیوں سے مجھ کو بھی حصہ ملے گا

    میں اپنی پیاس کے ہم راہ مشکیزہ اٹھائے

    کہ ان سیراب لوگوں میں کوئی پیاسا ملے گا

    روایت ہے کہ آبائی مکانوں پر ستارہ

    بہت روشن مگر نمناک و افسردہ ملے گا

    شجر ہیں اور اس مٹی سے پیوستہ رہیں گے

    جو ہم میں سے نہیں آسائشوں سے جا ملے گا

    ردائے ریشمی اوڑھے ہوئے گزرے گی مشعل

    نشست سنگ پہ ہر صبح گلدستہ ملے گا

    وہ آئینہ جسے عجلت میں چھوڑ آئے تھے ساتھی

    نہ جانے باد و خاک آثار میں کیسا ملے گا

    اسے بھی یاد رکھنا بادبانی ساعتوں میں

    وہ سیارہ کنار صبح فردا آ ملے گا

    چرا گاہوں میں رک کر آسمانی گھنٹیوں کو

    سنو کچھ دیر کہ وہ زمزمہ پیرا ملے گا

    اسی کی وادیوں میں طائران رزق جو کو

    نشیمن اور اجلی نیند کا دریا ملے گا

    اسی جائے نماز و راز پہ اک روز ثروتؔ

    اچانک در کھلے گا اور وہ جھونکا ملے گا

    مآخذ:

    • کتاب : Saweera (magazine-56 (Pg. 156)
    • Author : Salahuddin Mahmood
    • مطبع : Saweera art Press, Pakistan (1979)
    • اشاعت : 1979

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY