غیر کی خاطر سے تم یاروں کو دھمکانے لگے (ردیف .. ')

رنگیں سعادت یار خاں

غیر کی خاطر سے تم یاروں کو دھمکانے لگے (ردیف .. ')

رنگیں سعادت یار خاں

MORE BYرنگیں سعادت یار خاں

    غیر کی خاطر سے تم یاروں کو دھمکانے لگے

    آ کے میرے روبرو تلوار چمکانے لگے

    جی میں کیا گزرا تھا کل جو آپ رکھ قبضہ پہ ہاتھ

    خوب سا گھورے مجھے اور تن کے بل کھانے لگے

    دل طلب مجھ سے کیا میں نے کہا حاضر نہیں

    یہ غضب دیکھو مچل کر پاؤں پھیلانے لگے

    قتل کر کر یہ نہیں معلوم کیا گزرا خیال

    دیکھ وہ بسمل مجھے کچھ حیف سا کھانے لگے

    یار مجھ کو دیکھ زا رونا تو ان سا ہجر میں

    مشفقانہ کچھ نصیحت جبکہ فرمانے لگے

    جل کے رنگیںؔ میں نے یہ مصرع تجلیؔ کا پڑھا

    ''دل کو سمجھاؤ مجھے کیا آ کے سمجھانے لگے''

    مآخذ:

    • کتاب : intekhaab-e-sukhan(avval) (Pg. 73)
    • کتاب : intekhaab-e-sukhan(avval) (Pg. 74)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY