غم بے حد میں کس کو ضبط کا مقدور ہوتا ہے

عامر عثمانی

غم بے حد میں کس کو ضبط کا مقدور ہوتا ہے

عامر عثمانی

MORE BYعامر عثمانی

    غم بے حد میں کس کو ضبط کا مقدور ہوتا ہے

    چھلک جاتا ہے پیمانہ اگر بھرپور ہوتا ہے

    کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ دل رنجور ہوتا ہے

    مگر انسان ہنسنے کے لیے مجبور ہوتا ہے

    فضائے زندگی کی ظلمتوں کے مرثیہ خوانو

    اندھیروں ہی کے دم سے امتیاز نور ہوتا ہے

    نہیں یہ مرحلہ اے دوست ہر بسمل کی قسمت میں

    بہت مشکل سے کوئی زخم دل ناسور ہوتا ہے

    یہ سعی ضبط غم آنکھوں میں آنسو روکنے والے

    سفینوں میں کہیں طوفان بھی مستور ہوتا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY